Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Shayari

ﺑﮩﺖ ﺑﻮﻟﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻧﮧ ﻣﯿﮟ

ﺑﮩﺖ ﺑﻮﻟﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﺮ ﮐﮭﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺗﻨﮓ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﺑﮩﺖ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺑﮩﺖ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﺏ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻮﻟﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﮐﻮ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻌﻠﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﺮﯼ ﺫﺍﺕ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺗﮑﻠﯿﻔﺎﺕ ﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺍﮐﯿﻼ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﻨﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ ﭘﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﺟﮫ ﺳﺎ ﮨﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺑﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺎ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﮮ ﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﭨﻮﭦ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮞ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮞ ﻣﺮ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮞ ﺳﻨﻮ ﺍﺏ ﺑﮩﺖ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﺑﮩﺖ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ

صرف آنکھیں تھیں ابھی ان میں اشارے نہیں تھے

صرف آنکھیں تھیں ابھی ان میں اشارے نہیں تھے صرف آنکھیں تھیں ابھی ان میں اشارے نہیں تھے دل پہ موسم یہ محبت نے اتارے نہیں تھے جیسی راتوں میں سفر ہم نے کیا تھا آغاز سر بسر سمتیں ہی سمتیں تھیں ستارے نہیں تھے اب تو ہر شخص کی خاطر ہوئی مطلوب ہمیں ہم کسی کے بھی نہیں تھے جو تمہارے نہیں تھے جب ہمیں کوئی توقع ہی نہیں تھی تم سے ایسے اس وقت بھی حالات ہمارے نہیں تھے مہلت عمر میں رہنے دیے اس نے شامل جو شب و روز کبھی ہم نے گزارے نہیں تھے جب نظارے تھے تو آنکھوں کو نہیں تھی پروا اب انہی آنکھوں نے چاہا تو نظارے نہیں تھے ڈوب ہی جانا مقدر تھا ہمارا کہ وہاں جس طرف دیکھیے پانی تھا کنارے نہیں تھے کیوں نہیں عشق بھلا ہر کس و نا کس کا شعار اس تجارت میں اگر اتنے خسارے نہیں تھے ٹھیک ہے کوئی مدد کو نہیں پہنچا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ظفرؔ ہم بھی پکارے نہیں تھے